Tuesday, November 28, 2023





Versions: A3106 (International); A2849 (USA); A3105 (Canada, Japan); A3108 (China, Hong Kong)

NETWORKTechnologyGSM / CDMA / HSPA / EVDO / LTE / 5G
LAUNCHAnnounced2023, September 12
StatusAvailable. Released 2023, September 22
BODYDimensions159.9 x 76.7 x 8.3 mm (6.30 x 3.02 x 0.33 in)
Weight221 g (7.80 oz)
BuildGlass front (Corning-made glass), glass back (Corning-made glass), titanium frame (grade 5)
SIMNano-SIM and eSIM - International
Dual eSIM with multiple numbers - USA
Dual SIM (Nano-SIM, dual stand-by) - China
 IP68 dust/water resistant (up to 6m for 30 min)
Apple Pay (Visa, MasterCard, AMEX certified)
DISPLAYTypeLTPO Super Retina XDR OLED, 120Hz, HDR10, Dolby Vision, 1000 nits (typ), 2000 nits (HBM)
Size6.7 inches, 110.2 cm2 (~89.8% screen-to-body ratio)
Resolution1290 x 2796 pixels, 19.5:9 ratio (~460 ppi density)
ProtectionCeramic Shield glass
 Always-On display
PLATFORMOSiOS 17, upgradable to iOS 17.1.1
ChipsetApple A17 Pro (3 nm)
CPUHexa-core (2x3.78 GHz + 4x2.11 GHz)
GPUApple GPU (6-core graphics)
MEMORYCard slotNo
Internal256GB 8GB RAM, 512GB 8GB RAM, 1TB 8GB RAM
 NVMe
MAIN CAMERATriple48 MP, f/1.8, 24mm (wide), 1/1.28", 1.22µm, dual pixel PDAF, sensor-shift OIS
12 MP, f/2.8, 120mm (periscope telephoto), 1/3.06", 1.12µm, dual pixel PDAF, 3D sensor‑shift OIS, 5x optical zoom
12 MP, f/2.2, 13mm, 120˚ (ultrawide), 1/2.55", 1.4µm, dual pixel PDAF
TOF 3D LiDAR scanner (depth)
FeaturesDual-LED dual-tone flash, HDR (photo/panorama)
Video4K@24/25/30/60fps, 1080p@25/30/60/120/240fps, 10-bit HDR, Dolby Vision HDR (up to 60fps), ProRes, Cinematic mode (4K@24/30fps), 3D (spatial) video, stereo sound rec.
SELFIE CAMERASingle12 MP, f/1.9, 23mm (wide), 1/3.6", PDAF, OIS
SL 3D, (depth/biometrics sensor)
FeaturesHDR, Cinematic mode (4K@24/30fps)
Video4K@24/25/30/60fps, 1080p@25/30/60/120fps, gyro-EIS
SOUNDLoudspeakerYes, with stereo speakers
3.5mm jackNo
COMMSWLANWi-Fi 802.11 a/b/g/n/ac/6e, dual-band, hotspot
Bluetooth5.3, A2DP, LE
PositioningGPS (L1+L5), GLONASS, GALILEO, BDS, QZSS, NavIC
NFCYes
RadioNo
USBUSB Type-C 3.2 Gen 2, DisplayPort
FEATURESSensorsFace ID, accelerometer, gyro, proximity, compass, barometer
 Ultra Wideband 2 (UWB) support
Emergency SOS via satellite (SMS sending/receiving)
BATTERYTypeLi-Ion 4441 mAh, non-removable
ChargingWired, PD2.0, 50% in 30 min (advertised)
15W wireless (MagSafe)
7.5W wireless (Qi)
4.5W reverse wired
MISCColorsBlack Titanium, White Titanium, Blue Titanium, Natural Titanium
ModelsA2849, A3105, A3106, A3108, iPhone16,2
SAR1.07 W/kg (head)     1.11 W/kg (body)    
SAR EU0.98 W/kg (head)     0.98 W/kg (body)    
Price$ 1,199.99 / € 1,429.00 / £ 1,179.00 / ₹ 159,900
TESTSPerformanceAnTuTu: 1487203 (v10)
GeekBench: 7237 (v6.0)
DisplayContrast ratio: Infinite (nominal)
CameraPhoto / Video
Loudspeaker-24.5 LUFS (Very good)
Battery (new)
Battery (old)























بابر کو کپتانی سے ہٹانے کی تجویز کب زیر غور آئی؟ اندرونی کہانی سامنے آگئی

 بھارت میں ہوئے آئی سی سی ون ڈے ورلڈکپ میں پاکستان ٹیم کی کارکردگی ناقص رہی، ٹورنامنٹ میں بابر اعظم خود سے وابستہ توقعات بھی پوری نہ کرسکے۔ 



ذرائع کا کہنا ہے کہ ورلڈ کپ کے دوران پی سی بی کے حلقوں میں یہ تجویز زیر غور تھی کہ بابر اعظم کو قیادت سے سبکدوش کردیا جائے تاکہ وہ اپنی بیٹنگ پر توجہ دیں، تاہم انہیں کپتانی سے ہٹانے کا حتمی فیصلہ نہیں ہوا تھا۔ 

پی سی بی حکام ان کی من مانیوں اور دفاعی انداز کی وجہ سے انہیں کپتانی سے بریک دینا چاہتے تھے۔ 

top


نضمام الحق جس وقت چیف سلیکٹر تھے اس وقت بھی بابراعظم کی کپتانی زیر غور تھی البتہ انضمام الحق کے جانے کے بعد مکی آرتھر اور عبوری سلیکٹرز توصیف احمد، وجاہت اللہ واسطی اور وسیم حیدر نے کپتان تبدیل کرنے کی تجویز پر غور کیا تھا لیکن شان مسعود کو کپتان بنانے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں آئی تھی۔ 

مصدقہ ذرائع کا کہنا ہے کہ سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ محمد حفیظ، وہاب ریاض اور شان مسعود نے آسٹریلیا کے دورے کے لیے جس ٹیسٹ ٹیم کا اعلان کیا ہے اس سے ملتی جلتی ٹیم مکی آرتھر اور قومی سلیکٹرز نے تشکیل دی تھی۔ 

ان کی ٹیم میں حارث رؤف بھی شامل تھے لیکن بعد میں حارث رؤف نے آسٹریلیا کا دورہ کرنے سے معذرت کر لی تھی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم کے باوجود خصوصی عدالت کا سائفر کیس ٹرائل جیل میں ہی کرنیکا فیصلہ

 اسلام آباد: آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت نے سائفر کیس میں فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہےکہ ایس پی اڈیالہ جیل کی سکیورٹی رپورٹ کی روشنی ٹرائل جیل میں ہوگا جس کی اوپن سماعت کی جائے گی۔




اسلام آباد: آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت نے سائفر کیس میں فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہےکہ ایس پی اڈیالہ جیل کی سکیورٹی رپورٹ کی روشنی ٹرائل جیل میں ہوگا جس کی اوپن سماعت کی جائے گی۔

اسلام آباد کے جوڈیشل کمپلیکس میں  جج ابوالحسنات ذوالقرنین کی عدالت میں سائفر کیس کی سماعت جاری ہے جس سلسلے میں چیئرمین پی ٹی آئی کے وکلا اور ایف آئی اے اسپیشل پراسیکیوٹرز عدالت میں پیش ہوئے جب کہ عمران خان کی بہنیں اور شاہ محمود کی بیٹی بھی عدالت میں موجود ہیں۔ْ


سماعت کے آغاز پر وکیل صفائی سلمان صفدر نے کہا کہ سائفر کیس کا ٹرائل آج سماعت کے لیے مقرر ہے، ہم امید کررہے ہیں کہ عمران خان کو  پیش کیا جائے گا، ابھی تک انہیں عدالت میں پیش نہیں کیا گیا، یہ ریکارڈ کیس ہے اتنی رفتار سے کبھی کیس نہیں چلا۔


اس دوران جج ابوالحسنات نے عدالتی عملے کو کیس کا ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت کی۔

دوران سماعت جیل حکام نے چیئرمین پی ٹی آئی کی عدالت میں پیشی سے متعلق رپورٹ پیش کی جس کا جج نے جائزہ لیا اور کہا کہ جیل حکام کا کہنا ہے کہ عمران خان کو پیش نہیں کرسکتے۔

ایس پی اڈیالہ جیل کا عدالت کو خط

سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے عدالت کو خط لکھا جو ایف آئی اے اسپیشل پراسیکیوٹر شاہ خاور نے عدالت میں پڑھا۔


خط میں کہا گیا ہےکہ چیئرمین پی ٹی آئی کو سکیورٹی وجوہات کے باعث عدالت میں پیش نہیں کرسکتے،اسلام آباد پولیس کو اضافی سکیورٹی کے لیے خط لکھا، بتایا گیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو سنجیدہ نوعیت کے سکیورٹی خدشات ہیں۔

سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے اسلام آباد پولیس کی رپورٹ بھی جیل رپورٹ کےساتھ منسلک کی ہے۔

ایس پی جیل کے خط پر وکیل صفائی کا اعتراض

ایس پی اڈیالہ جیل کے خط میں وکیل صفائی نے کہا کہ اسلام آباد میں دہشتگرد گھسے نہ کوئی ایسا دہشتگردانہ واقعہ پیش آیا ، چیئرمین پی ٹی آئی کو آج ہی عدالت میں پیش تو کرنا پڑےگا، کن انٹیلی جنس ایجنسیوں کی رپورٹ پر سپرٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے چیئرمین پی ٹی آئی کو پیش نہیں کیا، 50 سے 60 مقدموں میں عمران خان کے ساتھ عدالت میں پیش ہو چکاہوں۔

سلمان صفدر نے کہا کہ کون سی تخریب کاری ہوئی ہے جو چیئرمین پی ٹی آئی کو عدالت نہیں لائے، مجھے صبح ہی آثار نظر آگئے تھے کہ انہیں نہیں لانا، سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے اسلام آبادہائیکورٹ اور آپ کے فیصلے کی خلاف وزری کی ہے۔

وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ آپ کے ایک حکم پر ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو عدالت پیش کیاجائے، آپ بھی حیران ہیں، ہم بھی حیران ہیں اور پراسیکیوشن بھی حیران ہے۔

اس دوران وکیل سلمان صفدر نے ایس پی اڈیالہ جیل کا خط پڑھنے کو مانگ لیا جس پر جج نے کہا کہ پہلا پیج دیکھ لیں، دیگر کانفیڈینشل صفحات ہیں۔

عمران خان کے وکیل نے کہا کہ اگرسائفرکیس جیل میں بھی نہیں چل سکتا، عدالت میں نہیں چل سکتا، توکہاں چلےگا؟ اس پر جج نے کہا کہ ٹینشن نہ لیں، عدالت مناسب فیصلہ کرےگی،  میں نے چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود کو عدالت میں پیش کرنے کا آرڈر دیا تھا،  سکیورٹی ہے یا نہیں، اس کو تو میں دیکھتاہوں، 352 سیکشن کے مطابق اوپن کورٹ سماعت ہوگی، جتنے مرضی نوٹیفکیشن آئیں مجھے اس سے کوئی غرض نہیں، کوئی بھی دوران سماعت آنا چاہتا ہے مجھے کوئی غرض نہیں، مجھے سائفرکیس میں اوپن ٹرائل سے غرض ہے، غیرقانونی نوٹیفکیشن پرجیل ٹرائل ہوا، عدالت کے فیصلے کے مطابق نہیں ہوا، سائفرکیس کی سماعت بے شک کمرہ عدالت سے باہر لگا لیں،  میں جوڈیشل آرڈر پاس کروں گا، آئسولیشن میں نہیں جانے دیاجائےگا۔


وکیل سلمان صفدر نے 2 بجے تک چیئرمین پی ٹی آئی کو عدالت پیش کرنے کی استدعا کردی اس پر جج نے کہا کہ اس معاملے پر آرڈر پاس کروں گا۔

بعد ازاں عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد عمران خان اور شاہ محمود کی پیشی سے متعلق فیصلہ محفوظ کرلیا جو کچھ دیر بعد سنایا جائیگا۔

عدالت کا فیصلہ

عدالت نے تقریباً ایک گھنٹے بعد فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی سکیورٹی رپورٹ کی روشنی میں جیل میں ٹرائل ہوگا جو اوپن ہوگا، کیس سماعت سننے کے خواہشمند کو روکا نہیں جائےگا، صحافیوں کو بھی سائفرکیس کی سماعت سننے کی اجازت ہوگی۔

واضح رہےکہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کے خلاف سائفر کیس کا جیل ٹرائل کالعدم قرار دیا تھا۔

Monday, November 27, 2023

عازمین کیلئے خوشخبری، حج درخواستوں کی وصولی کا اعلان کردیا گی

 

پاکستانی بینک 27 نومبر سے 12 دسمبر تک سرکاری اسکیم کے تحت درخواستیں وصول کریں گے





کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 26 نومبر2023ء) آئندہ سال حج کیلئے عازمین سے درخواستوں کی وصولی آج(پیر)27نومبرسے شروع ہوجائے گی جو 12 دسمبر تک جاری رہے گی، 2024 میں 89 ہزار 605 پاکستانی سرکاری اسکیم کے تحت فریضہ حج ادا کریں گے، زائد درخواستیں موصول ہونے پر قرعہ اندازہ ہوگی، خواتین پہلی مرتبہ بغیر محرم حج ادا کرسکیں گی۔پاکستانی عازمین حج کیلئے خوشخبری، آئندہ سال کیلئے بینک کل سے حج درخواستیں وصول کریں گے، سرکاری اسکیم حج درخواستوں کی وصولی 27 نومبر سے 12 دسمبر تک جاری رہے گی، آئندہ برس تقریبا 89 ہزار 605 پاکستانی سرکاری اسکیم کے تحت فریضہ حج ادا کریں گے۔


                                                     


رپورٹ کے مطابق تاریخ میں پہلی بار خواتین محرم کے بغیر حج ادا کرسکیں گی، مقررہ تعداد سے زائد درخواستیں موصول ہونے کی صورت میں قرعہ اندازی کی جائے گی۔

حج 2024 کیلئے اسپانسرڈ شپ اسکیم کے تحت 25 ہزار کا کوٹہ مختص کیا گیا، اسکیم کے تحت درخواستیں ڈالرز کے ہمراہ بیرون ملک سے جمع کرانی ہوں گی، اسکیم کے تحت درخواست دہندہ یا ان کے عزیز و رشتہ دار قرعہ اندازی سے مستثنی ہوں گے۔

وزارت مذہبی امور کے مطابق حج درخواستوں کیلئے 15 بینکوں کی خدمات حاصل کی گئی ہیں، دسمبر 2024 تک کارآمد شناختی کارڈ پر حج درخواستیں جمع کروائی جاسکیں گی۔واضح رہے کہ حکومت نے رواں سال حج اخراجات میں ایک لاکھ روپے کی کمی کی ہے جبکہ وزیر مذہبی امور کا کہنا تھا کہ اس میں مزید کمی کیلئے بھی کوشش کررہے ہیں۔وفاقی وزیر مذہبی امور نے اعلان کیا ہے کہ حج اخراجات میں ایک لاکھ روپے کمی کردی، مزید بھی سستا کیا جائے گا۔ انہوں نے 2024 میں اسکردو سے بھی حج فلائٹس شروع کرنے کا اعلان کردیا۔

متحدہ عرب امارات میں 2024ء کی تعطیلات کا اعلان

 

رہائشی سال میں کم از کم 13 سرکاری چھٹیوں سے لطف اندوز ہوں گے






ابوظہبی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین ۔ 22 نومبر 2023ء ) متحدہ عرب امارات نے 2024ء کے دوران آنے والی تعطیلات کا اعلان کردیا، رہائشی سال میں کم از کم 13 سرکاری چھٹیوں سے لطف اندوز ہوں گے۔ خلیجی میڈیا کے مطابق اماراتی کابینہ کی طرف سے متحدہ عرب امارات کے رہائشیوں کے لیے 2024ء میں کم از کم 13 سرکاری تعطیلات کا اعلان کیا گیا ہے، چھٹیوں کے 7 میں سے 4 مواقعوں پر طویل ویک اینڈز ہوں گے، جن میں سب سے زیادہ لگاتار 6 دن کا وقفہ ہوگا، یہ چھٹیاں ان 30 سالانہ چھٹیوں کے علاوہ ہیں جو ملازمین ایک سال میں لے سکتے ہیں اور پچھلے کچھ مہینوں کے دوران کیے گئے متعدد سفری سروے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ متحدہ عرب امارات میں مقیم تارکین وطن کی اکثریت اپنے آبائی ممالک کا سفر کرنے کے لیے اپنی سالانہ چھٹیوں کا استعمال کرتی ہے، وہ عوامی تعطیلات اور توسیع شدہ اختتام ہفتہ کو مختص کرتے ہیں۔
                                 

بتایا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے رہائشی 2024ء کا آغاز ایک طویل ویک اینڈ کے ساتھ کریں گے، نئے سال کی پہلی سرکاری تعطیل یکم جنوری بروز پیر ہے، جو تین دن کے اختتامِ ہفتہ کا باعث بنے گی، اس کے بعد عید الفطر پر 6 دن کی تعطیلات ہونے کا امکان ہے، یہ اسلامی تہوار رمضان المبارک کے مہینے کے اختتام کی نشاندہی کرتا ہے، حکومت نے واضح کیا ہے کہ 29 رمضان سے 3 شوال تک عام تعطیل ہوگی، یہ تقریباً چار یا پانچ دن کی چھٹی ہے جو اس بات پر منحصر ہے کہ آیا مہینہ بالترتیب 29 یا 30 دن چلتا ہے، تاہم آئی اے سی اے ڈی کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے ہجری کیلنڈر کے تحت رمضان المبارک 29 دن کا ہونے کا امکان ہے، اس کی بنیاد پر منگل 9 اپریل سے جمعہ 12 اپریل تک تعطیلات بنتی ہیں اور جب ان کے ساتھ ہفتہ اتوار کے ویک اینڈ کو ملایا جائے تو یہ 6 دن کا وقفہ ہے۔

معلوم ہوا ہے کہ 2024ء میں یوم عرفہ اور عید الاضحیٰ کے موقع یو اے ای میں 5 دن کی چھٹی ہوگی، یوم عرفہ 9 ذوالحجہ کو منایا جاتا ہے اور اسلامی تہوار عید الاضحیٰ اس کے بعد کے تین دنوں میں منایا جاتا ہے، آئندہ برس اتوار 16 جون سے بدھ 19 جون بشمول اختتام ہفتہ یعنی 15 جون کو ملاکر اس تہوار کے موقع پر پانچ دن کی چھٹی ہے، اس کے علاوہ اسلامی نیا سال کے دوران 1 دن کی چھٹی ہوگی، 2024ء کا نیا اسلامی سال جولائی میں آتا ہے اور یکم محرم ہجری سال کا پہلا دن اتوار 7 جولائی کو آنے کی توقع ہے۔

بتایا جارہا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یوم ولادت کو 12 ربیع الاول پر بھی عام تعطیل ہوگی، اس کے بعد امارات کے قومی دن پر سال کی آخری سرکاری چھٹی طویل ہوگی کیوں کہ 2 اور 3 دسمبر بالترتیب پیر اور منگل کو آتے ہیں اور ہفتہ اتوار کے اختتام ہفتہ کے ساتھ مل کر یہ چار دن کی چھٹی بن جائے گی۔

Canon Powershot V10 2023

 

How do cancer patients know the end is near?

 Predicting the end of life for a cancer patient can be challenging as it varies from person to person. Some indicators that might suggest the end is nearing include a decline in physical function, increased fatigue, loss of appetite, difficulty swallowing, increased pain, changes in breathing, decreased responsiveness, and an overall decline in health despite medical interventions. However, these signs are not universal, and each person's experience can be unique. Healthcare providers, hospice teams, and caregivers can often provide guidance and support in recognizing these signs.

What are the biggest money secrets that rich people keep from us?

 Rich people may not necessarily keep specific "secrets" from others, but they often employ certain financial strategies or mindsets that contribute to their wealth. Some principles that many wealthy individuals follow include:


1. **Investment strategies:** Wealthy individuals often invest wisely, diversify their portfolios, and seek opportunities for long-term growth. They may invest in stocks, real estate, businesses, or other assets.


2. **Financial education:** Many affluent individuals prioritize financial literacy and continuously seek knowledge about money management, taxes, and investment opportunities.


3. **Networking and relationships:** Building strong connections and leveraging networks can open doors to opportunities, whether it's in business ventures, investments, or career advancements.


4. **Mindset and discipline:** Wealthy people often have disciplined saving habits, live below their means, and avoid unnecessary debt. They understand delayed gratification and make decisions that align with their long-term financial goals.


5. **Tax optimization:** They may use legal and ethical strategies to minimize taxes, such as taking advantage of tax incentives, deductions, or structures that optimize their tax liabilities.


6. **Asset protection:** They protect their assets through various legal means, such as trusts, insurance, and other risk mitigation strategies.


7. **Continuous learning and adaptation:** Successful individuals often remain adaptable and open to learning new strategies and adapting to changing financial landscapes or markets.


These are not necessarily secrets but rather practices that many wealthy individuals employ to build and maintain their wealth. Sharing these principles openly can empower others to improve their financial habits and work toward financial stability and success.